بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا امام کے حجرہ میں افطار کے لیے جانا

سوال

کیا معتکف مسجد  میں تعمیر امام کےحجرے میں افطار کے لیے جاسکتاہے؟

جواب

امام کا حجرہ عمومًا شرعی مسجد کی حدود سے باہر ہوتا ہے، اس لیے اگر معتکف  افطار کے لیے مسجد کے شرعی حدود (نماز کے لیے مختص جگہ) سے باہر امام صاحب کے حجرہ میں جائے گا تو اس کا مسنون اعتکاف فاسد ہوجائےگا، اور  ایک دن کی روزہ کے ساتھ اس کی  قضا کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلًا ونهارًا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان".

( الفتاوى الهندية (1/ 212)، (الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ)،الناشر: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201701
تاریخ03-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں