بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا شدید مجبوری میں اپنے اعتکاف کی جگہ سے باہر نکلنا

سوال

اگر  گھر  پر کوئی  نہ ہو تو  شدید ضرورت کے تحت اعتکاف والی جگہ سے باہر آ نے  سے اعتکاف  پر  کیا اثر  پڑتاہے؟

جواب

عورت کے اعتکاف کے لیے مختص کی گئی جگہ عورتوں کے حق میں ایسی ہے جیسے مردوں کے لیے مسجد ہے، عورت کے لیے اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہے،لہذا صورتِ مسئولہ  میں  اگر عورت کسی شرعی یا طبعی   ضرورت  (قضاءِ حاجت یا  وضو  یا گھر میں کوئی نہ ہونے کی صورت میں کھانا لینے) کے لیے اپنے  اعتکاف کی جگہ سے باہر نکل رہی ہے تو درست ہے اور  اگر کسی شرعی یا طبعی ضروت کے علاوہ گھر کے کسی کام کی وجہ سے اعتکاف کی جگہ سے باہر نکلے گی تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا ۔

عورت اگر گھر میں اکیلی ہے تو اسے چاہیے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے گھریلو  کاموں کے لیے کوئی متبادل انتظام کرلے؛ تاکہ پوری یک سوئی کے ساتھ یہ عبادت اپنی روح اور مقصد کے ساتھ ادا ہوجائے۔

وفي الفتاوى الهندية :

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها، إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لاتخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".   

(1/ 211ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201678
تاریخ03-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں