بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کو زکاۃ مانگنے پر دینے سے انکار کرنا

سوال

ایک شخص نے نئی دکان کھولی، پانچ مہینے ہوئے ہیں ،اب  اس کے پاس ایک خاتون آئی اور وہ کہنے لگی کہ آپ زکات دے دو گے ؟تو دکان دار کے منہ سے یہ نکل گیا کہ نہیں۔ تو کیا وہ دکاندار ایسا کہنے سے کافر ہو جاتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص نے یہ لفظ زکات کی  فرضیت کے انکار کے طور پر نہیں کہا تھا، بلکہ محض ایک سائلہ کو زکات دینے سے انکار کیا تھا، لہٰذا اس سے کفر لازم نہیں آتا۔ کفر تو  زکات کی فرضیت سے یا اس کو شرعی حکم ماننے سے انکار کرنے سے لازم آتا ہے۔

الفقہ الاکبر میں ہے:

«وَكَذَلِكَ لَو قَالَ لَا اعْلَم ان الله فرض عَليّ الصَّلَاة وَالصِّيَام وَالزَّكَاة فَإِنَّهُ قد كفر لقَوْله تَعَالَى {وَأقِيمُوا الصَّلَاة وَآتوا الزَّكَاة}»

(«الفقه الأكبر» (ص94)، الكتاب: الفقه الأكبر (مطبوع مع الشرح الميسر على الفقهين الأبسط والأكبر لالامام الأعظم أبي حنيفة ؒ۔تأليف محمد بن عبد الرحمن الخميس)الناشر: مكتبة الفرقان - الإمارات العربية)۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201675
تاریخ03-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں