بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات سے بچنے یا کم کرنے کی غرض سے بیوی کے زیورات نابالغ بچی کے نام کرنا

سوال

 کیا میں بیوی کا زیور مقدار نصاب  کم کرکے اپنی چھوٹی بچی جس کی عمر 5 سال ہے،   اس کے نام کر سکتاہوں ہوں،  جس سے زکات کم دینا پڑے گی ؟

جواب

محض زکات سے بچنے کے لیے  مذکورہ صورت اختیار کرنا مکروہِ  تحریمی ہے؛ کیوں کہ اس میں محتاجوں اور فقیروں کا نقصان ہے اور زکات کا دروازہ بند کر نا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری لازم آتی ہے۔ 

فتاوی بینات میں ہے :

’’اس پر قانون فقہ کی رو سے اگرچہ زکوۃ ادا کرنے کا فتوی نہیں ہوگا،  لیکن زکوۃ سے بچنے کی نیت سے اس طرح مستقل طور پر حیلہ اختیار کرنا اور مال کو مال پر، دولت کو دولت پر جمع کرتے رہنا غضبِ الہی کو دعوت دینا ہے، اپنے آپ کو اور مال کو گندا کرنا ہے، دنیا میں تو اس قسم کا حیلہ اختیار کرنے سے زکوۃ بچ  جائے گی،  لیکن آخرت میں اس پر سخت مؤاخذہ ہوگا۔۔۔‘‘الخ (ج۲ / ص۶۸۹)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201610
تاریخ02-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں