بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقدی نہ ہونے کی صورت میں سونا اور چاندی بھی زکاۃ میں دیے جا سکتے ہیں

سوال

سونا چاندی ہے ، مگر  زکات دینے کے  لیے رقم یعنی روپیہ نہیں ہے،  اس صورت میں کیسے زکات نکالنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   زکات ادا کرنے میں مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کوئی بھی صورت اختیار کی جا سکتی ہے:

1-  کل سونے اور چاندی کا سنار سے  وزن کراکے اس سونے اور چاندی  کا چالیسواں حصہ  (ڈھائی فی صد وزن)  تڑوا  لیا جائے اور  اس سونے اور چاندی کو  زکاۃ میں ادا کردیا جائے۔

2-  سونے اور چاندی میں سے کچھ فروخت کرکے  حاصل شدہ  رقم سے زکاۃ ادا کر دی جائے، یا اتنی ہی قیمت کا کوئی قیمتی سامان  (اگر موجود ہے تو وہ) دے دیا جائے۔

3-   اگر فی الحال رقم کا انتظام نہ ہو تو  جتنی زکاۃ بنتی ہے اتنی رقم اپنے پاس نوٹ کرلے، پھر جتنا جلد ہوسکے تھوڑی تھوڑی  کرکے یہ رقم زکاۃ میں ادا کرکے سبک دوش ہوجائے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201596
تاریخ02-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں