بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سر پر مہندی لگی ہو تو مسح اور نماز کا حکم

سوال

اگر سر پر مہندی لگائی ہو تو وضو کے وقت سر پر مسح کا کیا حکم ہو گا؟اور جب مہندی سر پر لگی ہو تو نماز میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1)      اگر سر  پر مہندی کا لیپ خشک ہوگیا ہو ، اور مہندی جسم دار  اور جمی ہوئی ہو   تو اس پر مسح کرنے سے مسح درست نہیں ہوگا،کیوں کہ خشک جمی ہوئی مہندی بالوں تک پانی کی تری پہنچنے سے مانع ہے،البتہ اگر مہندی تازہ ہو (گیلی ہو)اور پانی کی تری بالوں تک پہنچ جائے یا مہندی دھوئی گئی ہو  اور صرف مہندی کا رنگ باقی ہو تو اس پر مسح کرنا درست ہوگا۔

2)     مہندی سر  پر لگی ہو تو   اس حالت میں نماز پڑھنا درست ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلًا عن الوجيز."

(الفتاوى الهندية: كتاب الطهارة، الباب الاول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء (1/ 4)،ط. رشيديه)

الدر المختار مع رد المحتار  میں ہے:

(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى

(وفي الفتاوى الشامية)  قوله: ( به يفتى ) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللا بالضرورة، قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله، وعدم لزوجته وصلابته والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن ا هـ

(الدر المختار مع رد المحتار : کتاب الطہارة، مطلب  فی ابحاث الغسل (1/ 154)،ط. سعيد)

فقط، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201574
تاریخ02-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں