بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیانات سننے کا حکم

سوال

کیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بیان سننا حرام ہے جیساکہ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ مسلکی اعتبار سے ڈاکٹر ذاکر نائیک غیر مقلد ہیں ، اور ان  کو ادیان ومذاہب کے بارے میں کافی معلومات ہیں اور تقابلِ ادیان پر مہارت بھی ہے،لہٰذا خاص طور پر اس موضوع کے حوالے سے ان کے بیانات سن سکتے ہیں، لیکن حدیث اور فقہ میں ان کی علمیت اس درجے کی نہیں،اور ضروری بھی نہیں کہ ہر شخص ہر علم میں کامل مہارت رکھتا ہو ، اس لیے دینی مسائل کے بارے میں ان کی آراء  پر اعتماد کرنے کے بجائے  کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کرکے   عمل کیا جائے۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144209201525
تاریخ02-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں