بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا صلاۃ التسبیح کی جماعت کرانا

سوال

1۔ کیا  عورت صلوٰۃ التسبیح کی امامت کروا سکتی ہے ؟

2۔ کیا  عورتیں ایک عورت کے  پیچھے صلوٰۃ التسبیح پڑھ سکتی ہیں؟

3۔ عورتوں کا جمعہ کے دن ایک گھر میں جمع ہوکے کسی عورت کے پیچھے صلوٰۃ التسبیح پڑھنا صحیح ہے ؟

4۔ ان پڑھ عورتیں کسی عورت کے پیچھے صلوٰۃ التسبیح پڑھ سکتی ہیں؟

جواب

واضح  رہےکہ "صلاۃ التسبیح"  نفل نماز ہے اور نوافل جتنے بھی ہیں انہیں انفراداً ہی پڑھنے کا حکم ہے،  لہٰذا "صلاۃ التسبیح"  بھی اکیلے ہی پڑھنی چاہیے نہ کہ جماعت کے ساتھ۔  باقاعدہ جماعت کے ساتھ "صلاۃ التسبیح"  پڑھنا مکروہِ  تحریمی ہےاور پھر کچھ عورتوں کا ایک عورت کی امامت میں باجماعت نماز  پڑھنا، یا  گھروں سے باہر جاکر باجماعت نماز میں شریک ہونا بھی مکروہِ تحریمی ہے۔لہٰذا: 

1،2،3۔ ایک عورت کا چند عورتوں کو  صلاۃ التسبیح کی جماعت کرانامکروہِ  تحریمی ہے ۔

4۔جو عورتیں صلاۃ التسبیح پڑھنا نہ جانتی ہوں، انہیں چاہیے کہ وہ اس کا طریقہ سیکھ کر انفرادی طور پر پڑھیں، اورجب تک طریقہ معلوم نہ ہو عام نفل نماز کی طرح پڑھ کر توبہ و استغفار، دعا اور تسبیح و غیرہ کرلیا کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201505
تاریخ02-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں