بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا طالب علم پر صدقہ فطر واجب ہے؟

سوال

 کیا فطرانہ طالب علم پر واجب ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ صدقہ فطر کے وجوب یا عدمِ وجوب کا تعلق طالب علم ہونے یا نہ ہونے سے نہیں ہے، بلکہ صاحبِ نصاب ہونے یا نہ ہونے سے ہے، یعنی جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکاۃ واجب ہے یا اس پر زکاۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔

صورتِ  مسئولہ  میں اگر کوئی طالب علم مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق صدقہ فطر کے حق میں صاحب نصاب  ہے تو  اس پر صدقہ فطر واجب ہے، اور اگر اس کے پاس صدقہ فطر کے وجوب کی مالیت کے برابر مال واسباب موجود نہیں تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201479
تاریخ01-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں