بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی صحت کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ہے

سوال

کیا اعتکاف کے لیے بالغ ہونا شرط ہے؟

جواب

اعتکاف کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ہے ،  بچہ   اگر سمجھدار ہے،نماز کو سمجھتا ہے ،مسجد کے تقدس کا خیال رکھتا ہے تو اس کا اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 211):

"وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108):

"وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201446
تاریخ01-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں