بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندو کے برتن استعمال کرنا

سوال

 ہندو ورکرز کے استعمال والے برتن مسلمان کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

غیر مسلم کے پاک برتن استعمال کرنا مسلمان کے لیے جائز ہے،  اگرکوئی ناپاک چیزمثلاً شراب یاخنزیریاکوئی اورحرام چیزاس برتن میں نہ کھائی ہوتواس برتن کو استعمال کرسکتے ہیں اوراگرکوئی ناپاک یاحرام چیز استعمال کی ہوتوجب تک برتن کودھوکرپاک نہ کرلیا جائے اس وقت تک اس برتن کا استعمال ممنوع ہے، بہرحال! عام احوال میں بھی  ان برتنوں کو دھو  کر ہی استعمال کرنا بہتر ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 347):

"قال محمد - رحمه الله تعالى -: و يكره الأكل و الشرب في أواني المشركين قبل الغسل، و مع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز، و لايكون آكلًا و لا شاربًا حرامًا، و هذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني، فأما إذا علم فإنه لايجوز أن يشرب و يأكل منها قبل الغسل."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201389
تاریخ29-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں