بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لفظِ ان شاء اللہ کی ادائیگی کا طریقہ

سوال

"ان شاء اللہ"  کو ملا کر  بولیں  یا الگ الگ لفظوں سے بولیں؟  

جواب

تلفظ  اور   املاء  کے  قواعد مختلف  ہوتے ہیں،  لفظِ "ان شاء اللہ" تلفظ میں یعنی زبان سے ادا کرنے میں ملا کر ہی بولا جائے گا، درمیان میں وقف کر کے نہیں کہا جائے گا، البتہ تحریر میں جب یہ لفظ لکھا جائے گا تو  اس کو   "انشاء اللہ"  (ملاکر) نہیں لکھنا چاہیے، بلکہ الگ الگ  لکھنا چاہیے،  جیسا سوال میں لکھا ہوا ہے۔  فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

’’ان شاء اللہ‘‘ لکھنے کا درست طریقہ

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201356
تاریخ29-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں