بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قاتل مسلمان رہتا ہے؟

سوال

کیا وہ بندہ جس نے کسی کی جان لی  وہ مسلمان ہو سکتا ہے؟

جواب

کسی کو ناحق قتل کرنا ظلم اور کبیرہ گناہ ہے، اس کی وجہ سے آدمی فاسق ہوجاتا ہے،  لیکن  اس گناہ کرنے کی وجہ  سے آدمی دائرہ  اسلام  سے  خارج نہیں ہوتا؛ قرآنِ کریم میں ایسے شخص پر مؤمن کا اِطلاق کیا گیا ہے، البتہ  ناحق قتل کو  حلال  سمجھنا   کفر  ہے۔

{وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} [الحجرات: 9]

ترجمہ: اور اگر ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اِصلاح کرو۔ 

الموسوعة الفقهية الكويتية (32/ 321):

"فيكون القتل حرامًا كقتل النفس المعصومة بغير حق ظلمًا."

سنن ابن ماجہ:(880/2ط: دارالفکر)

"(من قتل في عمية أو عصبية بحجر أو سوط أو عصا فعليه عقل الخطإ،  و من قتل عمدًا فهو قود، و من حال بينه و بينه فعليه لعنة الله و الملائكة و الناس أجمعين، لايقبل منه صرف ولاعدل )".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201338
تاریخ29-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں