بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے

سوال

روزے کی حالت میں مسواک کرنا کیسا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں مسواک استعمال کرنا جائز ہے،  اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، اور اگر مسواک کرتے وقت  دانتوں اور  مسوڑھوں سے خون نکل آئے،  اسے تھوک دیا جائے، اندر نہ نگلا جائے تو بھی  روزہ فاسد نہیں ہوتا، اگرچہ خون کا رنگ تھوک پر غالب ہو۔

البتہ  اگر خون تھوک پر غالب ہو  یا برابر ہو اور روزہ دار  اپنے اختیار سے  اسے نگل لے تو روزہ  فاسد ہو جائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں ہو گا۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا، قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية: لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر: فلا بأس به عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج: 1، صفحہ: 199، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201337
تاریخ29-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں