بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابینا امام کی اقتدا میں جماعت کا حکم

سوال

نابینا امام کی اقتدا  جائز ہے  یانہیں؟

جواب

نابینا  امام  اگر  پاکی  و  طہارت کا  اہتمام کرتا ہے اور نماز وغیرہ کے مسائل کا عالم ہے تو   اس  کے   پیچھے نماز   بلاکراہت درست ہے۔

اور اگر موجودہ لوگوں میں علم وغیرہ کے اعتبار سے نابینا سب سے افضل ہو تو  بوقتِ تقرر اُسے امام بنانا بہتر  ہوگا، جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے بعض غزوات کے موقع پر عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا۔ 

الموسوعة الفقهية الكويتية (6/ 211):

"والكراهة في حقهم لما ذكر من النقائص، فلو عدمت بأن كان الأعرابي أفضل من الحضري، والعبد من الحر، وولد الزنا من ولد الرشدة والأعمى من البصير زالت الكراهة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201332
تاریخ29-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں