بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سید لڑکے کا غیر سید لڑکی سے یا سید لڑکی کا غیر سید لڑکے سے نکاح کرنا

سوال

سیدہ سے نکاح کرنا کیسا ہے؟  بعض سید لوگ کہہ رہےہیں کہ غیر سید سے نکاح نہیں ہوتاہے!

جواب

سید  لڑکے  کا  غیر سید لڑکی سے  نکاح کرنا  بہرصورت جائز ہے۔  اور   سیدہ لڑکی کا نکاح ولی کی اجازت سے غیر سید مسلمان  لڑکے  سے بھی جائز  ہے۔

نیز اگرعاقلہ وبالغہ سیدہ لڑکی  اپنے ولی کی اجازت کےبغیر غیر سید لڑکے سے نکاح کرے تو   نکاح منعقد ہوجائےگا،لیکن  اگر لڑکا  اس لڑکی کا کفو نہ ہو  (یعنی قریش کے علاوہ دیگر عرب قبیلہ کا یا عجمی قوم میں سے ہو)  اور   ولی کو اس پر اعتراض ہوتو اولاد ہونے سے پہلے ولی بذریعہ عدالت اس نکاح کو ختم کروا سکتا ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (34/ 265):

"لأن الكفاءة حق المرأة والأولياء، فإذا اتفقت معهم على تركها جاز.

واستدلّ الفقهاء على ذلك بأن النبي صلى الله عليه وسلم زوّج بناته، ولا أحد يكافئه.

وقد أمر النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة بنت قيس وهي قرشية بنكاح أسامة بن زيد وهو مولى للنبي صلى الله عليه وسلم."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201323
تاریخ28-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں