بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا بدبو دور کرنے کے لیے غسل کی نیت سےباہر جانا

سوال

 مجھے  عام  لوگوں  سے  زیادہ  پسینہ ہوتا ہے اور دن میں دو مرتبہ غسل کرنا پڑتا ہے  اور  میں  اس  کا خوب اہتمام کرتا ہوں کہ بدبو نہ آۓ ،  مسئلہ یہ ہے کہ اس سال اعتکاف میں بیٹھنے کا ارادہ ہے تو کیا روزانہ میں ایک دفعہ صابن سے غسل کر سکتا ہوں؟  اس لیے کہ اگر نہ کروں تو جسم سے بدبو آنے لگتی ہے۔

جواب

 معتکف کے لیےبدبو دور کرنے کے لیے غسل کی نیت سے  مسجد سے باہرجانا  جائز نہیں ہے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اتنے وقت میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال  لے، تاہم بدن پر  صابن لگانے میں چوں کہ اضافی وقت صرف ہوگا، اس لیے اتنی دیر رکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 الفتاوى الهندية (1/ 212):

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلايخرج المعتكف من معتكفه ليلًا ونهارًا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201318
تاریخ28-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں