بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کے لیے دعائے صحت اور دعائے ہدایت کا شرعی حکم

سوال

غیر مسلموں  کے  لیے  دعائے صحت اور  دعائے  ہدایت  کا  شرعی  حکم  کیا  ہے؟

جواب

غیر مسلموں  کے  لیے  دعاءِ  صحت  اور   دعاءِ  ہدایت کرنا  جائز ہے ، رسول اللہ ﷺ سے  ان کے لیے دعاءِ ہدایت کرنا ثابت ہے۔

"عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: كأني أنظر إلى رسول الله ﷺ يحكي نبيًّا من الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم ضربه قومه فأدمَوْه، وهو يمسح الدم عن وجهه، ويقول: اللّٰهم اغفر لقومي، فإنهم لايعلمون.  متفق عليه."

أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب الحذر من الغضب (8/ 28)، رقم: (6114)، ومسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب فضل من يملك نفسه عند الغضب وبأي شيء يذهب الغضب (4/ 2014)، رقم: (2609).

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201278
تاریخ28-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں