بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفل روزے کی نیت کے بعد صبح صادق سے پہلے ماہواری آجانے کی صورت میں قضا کا حکم

?سوال

ایک عورت نے نفل روزے کی نیت کرلی، سحری بھی کھائی،  سحری کھانے  کے بعد صبح صادق سے پہلے یعنی سحری کے وقت اس عورت کا حیض شروع ہوا  تو اب اس نیت کا کیا اعتبار ہوگا؟  اس نفلی نیت کی وجہ  سے قضا  لازم ہوگی  یا نہیں ؟

✓جواب

صورتِ  مسئوله  مىں   اگر  نفل روزے  کی نیت کرنے کے بعد ، صبح صادق سے پهلے عورت كو ماهواری شروع ہوگئی تو عورت  کے لیے اس دن روزہ رکھنا جائز نہیں ہے،اور بعد میں اس روزہ کی قضا بھی لازم نہیں ہوگی،کیوں کہ   روزہ کی نیت اگر رات کو بھی کرلی جائے   تو صبح صادق سے پہلے تک کھانا، پینا  وغیرہ سب جائز ہوتا، صرف نیت کرلینے سے روزہ شروع نہیں ہوتا، روزہ صبح صادق سے ہی شروع ہوتاہے؛ لہذا   صبح صادق سے پہلے ماہواری آجانے کی وجہ سے  اس عورت کا  روزہ شروع  ہی نہیں ہوا تھا، اس لیے اس کی قضا بھی لازم نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 377):

" (فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلاتصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها ولا (عندها) اعتبارا لأكثر اليوم."

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144209201240
تاریخ28-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں