بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تیمور نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم

سوال

کیا ہم "تیمور"  نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

’’تیمور ‘‘ ایک معروف بادشاہ کانام ہے، اس کا معنی ہے: لوہا، فولاد ۔   یہ بہادری سے کنایہ ہوتا ہے؛ اس لیے  یہ نام رکھنا درست ہے۔

قاموس معانی الاسماء میں ہے:

"اسم علم مذكر مغولي، معناه: الحديد. اشتهر به تيمورلنك، أي تيمور الأعرج. ولفظه التركي: تِمور.  اصل اسم تَيمور: مغولي".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201216
تاریخ28-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں