بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوٹ لگنے کی صورت میں ڈاکٹر کے کہنے پر روزہ توڑدینا

سوال

میں گرا،سر ، ناک اور  منہ پہ چوٹ آئی خون بھی  نکلا، ڈاکٹر نے کہا کہ  چار پانچ گھنٹے بعد چوٹ کی گہرائی کا پتا  چلے گا اور روزہ توڑنے کا مشورہ دیا،  میں نے روزہ توڑدیا،  اب قضا ہو گی یا فدیہ یا دونوں؟

جواب

سخت بیماری کی وجہ سے یاغالب گمان یا علامات یا تجربہ سے  یا کسی مسلمان طبیب کے کہنے سے  بیماری کے بڑھ جانے کے اندیشے کی  وجہ  سے روزہ توڑدینے کی شرعًا  گنجائش ہے، لہذا صورتِ  مسئولہ  میں اگر آپ نے زخمی ہونے کی  وجہ سے ڈاکٹر کے کہنے پر روزہ توڑدیا تو  اس کے بدلے  صرف ایک روزے کی قضا رکھنا لازم ہوگا، کفارہ  یا فدیہ لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أو مریض خاف الزیادة لمرضه … بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بإخبار طبیب حاذق مسلم مستور … وقضوا لزوماً ما قدروا". (شامی 2/422)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201163
تاریخ27-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں