بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث میں کون سے سرکہ کا ذکر آیا ہے؟

سوال

 حدیث شریف میں سرکہ کا ذکر آیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ سرکہ ایک بہترین سالن ہے۔ کیا یہ وہ سرکہ ہے جو آج کل مارکیٹ میں سیب یا انگور وغیرہ کا بوتل کی شکل میں دستیاب ہے یا عرب میں کوئی اور چیز ہے؟ راہ نمائی فرمائیں کہ حدیث شریف میں ذکر کیا گیا اصل کون سا سرکہ یا سرکہ سالن ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حدیث شریف میں مطلقًا  سرکہ کا ذکر ہے؛  لہذا ہر قسم کا سرکہ اس میں شامل ہے ، حدیث شریف میں کسی خاص قسم کے سرکہ کا ذکر نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"وَالْخَمْرُ  إذَا تَخَلَّلَ بِنَفْسِهِ أَمَّا إذَا خَلَّلَهُ بِعِلَاجٍ بِالْمِلْحِ أَوْ بِغَيْرِهِ يَحِلُّ عِنْدَنَا الْكُلُّ فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ."

(كتاب الأشربة، الباب الأول في تفسي الأشربة، ج:5، ص:410، مكتبه رشيديه)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 113):

'' إذا تخللت بنفسها يحل شرب الخل بلا خلاف؛ لقوله: عليه الصلاة والسلام: «نعم الإدام الخل» ... فأما إذا خللها صاحبها بعلاج من خل أو ملح أو غيرهما، فالتخليل جائز، والخل حلال عندنا''.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201138
تاریخ27-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں