بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں قے کا آنا

سوال

روزے کی حالت میں ڈکار کے ساتھ قے آئی جو بالکل تھوڑی تھی اور واپس چلی گئی تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب

 اگر روزے کی حالت میں ڈکار کے ساتھ معمولی قے  آجائے اور  وہ قے  خودبخود واپس چلی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، لیکن اگر اپنے اختیار سے واپس لے جائے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، خواہ منہ بھر کے ہو یا نہیں۔

 اگر روزے کے دوران الٹی ہوجائے اس کی چار صورتیں ہیں:

 1۔بلااختیار اور بلاقصد خود بخود منہ بھر کرقے آئی ۔

2۔ بلااختیار اور بلاقصد تھوڑی سی قے آئی۔

3۔ اپنے اختیار سے قے کی اور مقدار تھوڑی تھی۔

4۔ اپنے قصد و اختیار سے قے کی اور قے کی مقدار منہ بھر کر تھی۔

پہلی تینوں صورتوں میں روزہ نہیں  ٹوٹتا، جب کہ چوتھی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201092
تاریخ27-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں