بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سجدہ تلاوت میں تاخیر کرنا گناہ ہے؟

سوال

سجدہ تلاوت اگر ایک سال بعد کرے تو گناہ ہوگا کہ نہیں؟

جواب

سجدہ تلاوت فی الفور کرنا افضل ہے،  تاخیر مکروہ ہے،  تاہم تاخیر کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوگا، البتہ سجدہ تلاوت نہ کرنے کی صورت میں گناہ ہوگا، لہذا صورتِ  مسئولہ میں سال بھر بعد سجدہ تلاوت کرنے والا   گناہ گار نہ ہوگا۔

زبدة الفقہ میں ہے:

’’اگر آیتِ سجدہ نماز سے باہر پڑھی تو فوراً سجدہ کرنا واجب نہیں، ہاں بہتر و افضل ہے اور تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے؛ کیوں کہ شاید بعد میں یاد نہ رہے، لیکن جب بھی سجدۂ تلاوت کرے گا ادا ہو جائے گا قضا نہیں کہلائے گا، اگر اس وقت سجدہ نہ کر سکے تو تلاوت کرنے اور سننے والے کو یہ کہہ لینا مستحب ہے سمعنا و اطعنا غفرانك ربنا و الیك المصیر . لیکن عمر بھر میں کسی وقت وہ سجدہ کر لینا چاہیے، ورنہ گناہ گار  ہو گا۔‘‘

(سجدۂ تلاوت کا بیان، سجدۂ تلاوت کے متفرق مسائل، ص: ٢٦٨،ط:  زوار اکیڈمی)

سجدہ تلاوت تاخیر سے ادا کرنا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201008
تاریخ26-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں