بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل اسکرین پر والدہ کی تصویر لگانا

سوال

 کیا موبائل فون کے وال پیپر پر مرحومہ والدہ کی تصویر لگائی جا سکتی ہے؟

کسی صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ وال پیپر پر تصویر لگانے سے نا محرم  افراد  کی بھی اُس پر نظر پڑتی ہے جو کہ گناہ کا سبب بنتا ہے۔

جواب

زندہ یا مردہ انسان کی تصویر موبائل کی اسکرین پر لگانا جائز نہیں، اسی طرح سے کسی نامحرم کی تصویر دیکھنا بھی جائز نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں موبائل اسکرین پر مرحومہ والدہ کی تصویر ہر گز  نہ لگائی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها."

(کتاب الصلوۃ ، باب مایفسد الصلوۃ و مایکرہ فیها: 1/ 647، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200997
تاریخ26-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں