بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حیثیت

سوال

رمضان میں اعتکاف کرنا سنت ہے ؟

جواب

رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے،حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ  ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے  تھے یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے پردہ فرماگئے۔

مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسلسل اعتکاف کرنا ثابت ہے، البتہ ایک مرتبہ آپ  ﷺ  نے پورے مہینے اعتکاف کیا، اور اس کی وجہ شبِ قدر کی تلاش بتائی، اس کے علاوہ عمومی معمول آخری عشرے کا اعتکاف کرنے کا تھا، تاہم سنہ 8 ہجری میں چوں کہ فتح مکہ مکرمہ کی وجہ سے آپ ﷺ نے اعتکاف نہیں کیا، لہٰذا وفات سے پہلے سال آپ ﷺ نے رمضان المبارک میں بیس دن اعتکاف فرمایا۔

مردوں کے مسنون اعتکاف کے لیے مسجد ہونا شرط ہے، مردوں کے لیے گھر میں اعتکاف کرنا جائز نہیں، جب کہ عورت گھر میں اعتکاف کرے گی، اعتکاف کے دوران بلاضرورت اپنے معتکف (مسجد / گھر کا مخصوص حصہ)  سے باہر نکلنا جائز نہیں۔

الفتاوى الهندية (1 / 211):

"وينقسم إلى واجب، وهو المنذور تنجيزا أو تعليقا، وإلى سنة مؤكدة، وهو في العشر الأخير من رمضان، وإلى مستحب، وهو ما سواهما، هكذا في فتح القدير".

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200991
تاریخ26-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں