بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسوڑوں سے خون نکلنے کی وجہ سے وضو کا حکم

سوال

اگر کوئی باوضو شخص مسواک کرلے اور دورانِ مسواک اس کے مسوڑوں سے خون نکلے، کیا وضو ٹوٹ جائے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مسواک کرنے  سے اگر خون نکل آئے اور سیلان بھی پایا جائے تو   اس  صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، بصورت دیگر اگر سیلان نہ پایا جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و إن خرج من نفس الفم تعتبر الغلبة بينه و بين الريق فإن تساويا انتقض الوضوء، و يعتبر ذلك من حيث اللون، فإن كان أحمر انتقض، و إن كان أصفر لاينتقض، كذا في التبيين. و المتوضئ إذا عض شيئًا فوجد فيه أثر الدم أو استاك بسواك فوجد فيه أثر الدم لاينتقض ما لم يعرف السيلان، كذا في الظهيرية."

( كتاب الطهارة ،الباب الاول في الوضوء، الفصل الخامس في نواقض الوضوء، ١ / ١١، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200950
تاریخ26-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں