بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے روزے میں نذر کے روزے کی بھی نیت کرنا

سوال

میں نے تیس روزے رکھنے کی نذر مانی تھی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو تیس روزے شکرانے کے طور پہ رکھوں گی۔ اب رمضان المبارک آچکا ہے ،تو کیا رمضان کے فرض روزوں کے ساتھ نذر کے روزوں کی نیت کی جاسکتی ہے، جب کہ الگ سے روزے رکھنا مشکل ہو رہا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  رمضان  کے روزے نذر کی طرف  سے کافی نہیں ہو سکتے، بلکہ رمضان میں رمضان کے روزے ہی ادا کیے جائیں گے۔ نذر کے روزے رمضان کے علاوہ مستقل طور پر رکھنا ضروری ہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وَإِذَا نَوَى وَاجِبًا آخَرَ فِي يَوْمِ رَمَضَانَ يَقَعُ عَنْ رَمَضَانَ.

النذر الْمُعَيَّنُ إذَا صَامَهُ بِنِيَّةِ وَاجِبٍ آخَرَ كَقَضَاءِ رَمَضَانَ وَالْكَفَّارَةِ كَانَ عَنْ الْوَاجِبِ وَعَلَيْهِ قَضَاءُ مَا نذر كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ، وَهُوَ الْأَصَحُّ كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ."

(الفتاوى الهندية-كتاب الصوم - صفحة 196, ج 1، ط:  دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200924
تاریخ25-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں