بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عادت کے ایام مکمل ہونے کے دو دن بعد دوبارہ خون شروع ہوجائے تو نماز اور روزہ کا حکم

سوال

ایک عورت کو چار دن حیض آیا اور  عادت کے مطابق چار دن کے بعدغسل بھی کرلیا اور نماز روزہ بھی شروع کردیا، پھردو دن بعدخون شروع ہوگیا تو اب کیا کرے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کی  ماہواری کی عادت چار دن  تھی اور عادت کے مطابق چار دن خون آکر بند  ہوگیا اور اس نے نماز روزے شروع کردیے اور اس کے دو دن بعد دوبارہ خون شروع ہوگیا تو یہ عورت انتظار کرے، اگر  یہ خون دس دن مکمل ہونے سے پہلے بند ہوجاتا ہے   یہ مکمل حیض شمار ہوگا اور اس کو عادت کی تبدیلی شمار کیا جائےگا۔

لیکن اگر یہ خون  دس دن  سے بھی زیادہ بڑھ گیا تو  عادت کے مطابق چار دن حیض کے ہوں گے اور باقی استحاضہ کا خون شمار ہوگا، اور استحاضہ کے ایام کے نماز اور روزوں دونوں کی قضا لازم ہوگی، جب کہ حیض کے دنوں کے صرف روزوں کی قضا ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1 / 37):

"فَإِنْ لَمْ يُجَاوِزْ الْعَشَرَةَ فَالطُّهْرُ وَالدَّمُ كِلَاهُمَا حَيْضٌ سَوَاءٌ كَانَتْ مُبْتَدَأَةً أَوْ مُعْتَادَةً وَإِنْ جَاوَزَ الْعَشَرَةَ فَفِي الْمُبْتَدَأَةِ حَيْضُهَا عَشَرَةُ أَيَّامٍ وَفِي الْمُعْتَادَةِ مَعْرُوفَتُهَا فِي الْحَيْضِ حَيْضٌ وَالطُّهْرُ طُهْرٌ. هَكَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200888
تاریخ25-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں