DR OETHKAR کی مایونیز کا حکم
سوال
انڈیا میں ’’DR OETHKAR ‘‘ کی مایونیز حلال ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ کسی بھی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا مدار اس کے اجزائے ترکیبی پر ہوتا ہے، اگر اجزائے ترکیبی حلال ہوں تو ان سے تیار شدہ اشیاء بھی حلال ہوتی ہیں، اور اگر تمام یا بعض اجزائے ترکیبی حرام ہوں تو ان سے تیار شدہ اشیاء بھی حرام شمار ہوتی ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ کمپنی کی مایونیز کے اجزئے ترکیبی حلال ہیں تو اس کاکھانا حلال ہوگا اور اگر اس کے تمام اجزئے ترکیبی حلال نہیں ہیں ،بلکہ اس میں حرام اجزاء شامل ہیں تو کھانا حرام ہوگا ۔
اس حوالے سے ہندوستان کے مستند مفتیانِ کرام سے رجوع کرکے اجزائے ترکیبی کے حلال یا حرام ہونے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
{ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ }[الأعراف: 157]
دوسری جگہ ارشاد ہے:
{ قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} [الأنعام: 145]
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

