بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رات کے وقت ناخن کاٹنا

سوال

 کیا رات کو ناخن وغیرہ کاٹنا خلافِ  سنت یا خلافِ  ادب ہے؟

جواب

رات کے وقت ناخن کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، جو لوگ رات کو ناخن کاٹنے کو خلافِ  سنت یا خلافِ  ادب یا  حرام کہتے  ہیں وہ  غلط  کہتے  ہیں، اس بارے میں مختلف قسم کے جو اوہام وخیالات عوام میں مشہور ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے ایک مرتبہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے  پوچھا کہ رات کے وقت ناخن کاٹنے کا کیا حکم ہے؟  امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ رات کو بھی کاٹ لینے چاہییں،(یعنی صبح کا انتظار نہیں کرنا چاہیے) تو ہارون رشید نے پوچھا کے اس بات پر کیا دلیل ہے؟  تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خیر (ثواب) کے کام کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔

الفتاوى الهندية (5/ 358):

"حكي أن هارون الرشيد سأل أبا يوسف - رحمه الله تعالى - عن قص الأظافير في الليل؟ فقال: ينبغي، فقال: ما الدليل على ذلك؟ فقال: قوله عليه السلام: «الخير لايؤخر»، كذا في الغرائب".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200866
تاریخ25-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں