بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کے مصارف

سوال

صدقہ فطر (فطرہ) کے مصارف بیان فرمائیں۔

جواب

فدیہ اور  فطرانہ (صدقہ فطر ) کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے،  یعنی ایسا مسلمان جو سید اور ہاشمی نہ ہو  اور   اس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان نہ ہو  جس کی مالیت نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی  کی موجودہ قیمت)  تک  پہنچے۔ ایسے افراد کو زکات  اور صدقہ فطر دیاجاسکتا  ہے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 368):

’’(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.

(قوله: في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر و لاتصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف، وقدمنا بيان الأفضل في المتصدق عليه.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200858
تاریخ25-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں