بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اشراق اور چاشت ایک وقت میں پڑھنا

سوال

کیا اشراق اور چاشت ایک ہی نماز ہیں؟اور اگر نہیں تو کیا ان کو ایک ہی وقت میں پڑھا جا سکتا ہے؟مثلاً پہلے دو،دو رکعت اشراق پڑھ لیں پھر دو،دو چاشت پڑھ لیں؟

جواب

فقہاء کے نزدیک اشراق اور چاشت کی نمازیں الگ الگ ہیں، سورج نکلنے کے کم از کم دس منٹ بعد سے استواء الشمس تک اشراق کی نماز کا وقت ہے، البتہ اول وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ چاشت کا وقت بھی یہی ہے، البتہ افضل وقت ایک چوتھائی گزرنے کے بعد ہے، دونوں کا ابتدائی اور انتہائی وقت ایک ہی ہے؛ لہذا اشراق اور چاشت   کی نماز ایک  ساتھ  بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة (2/ 22):

’’( و ) ندب ( أربع فصاعداً في الضحى ) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال، ووقتها المختار بعد ربع النهار‘‘.

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200850
تاریخ25-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں