بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدودِ اربعہ کی تعیین کے بعد مسجد کی جگہ کو بدلنا

سوال

ہم نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی خریدی جس میں مسجد کی ایک جگہ متعین کی جا چکی ہے ، اب وہ مجوزہ مسجد صرف ایک سائیڈ پر رہ گئی ہے، جب کہ آبادی دوسری جانب زیادہ ہے، ہم مسجد کا پلاٹ تبدیل کر کے اسے کسی مرکزی جگہ منتقل کرنا چارہے ہیں ۔کیا ہم مسجد کی جگہ/  پلاٹ  تبدیل کر سکتے ہیں ؟ ہمارے خیال میں جگہ تبدیل کرنے سے نمازیوں اور رہائشیوں کو زیادہ آسانی ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ متعینہ جگہ کو باؤنڈری وال لگا کر  مسجد کے لیے مختص کر دیا گیا ہو تو اس حد بندی کے بعد اس مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل  نہیں کیا جا سکتا، یہ جگہ  مسجد  کے لیے متعین ہو چکی، ہاں!  یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ آبادی کے قریب ایک دوسری مسجد بھی بنا لی جائے۔

 البحر الرائق لابن  نجیم:

"و قال أبو يوسف: هو مسجد أبدًا إلى قيام الساعة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200842
تاریخ25-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں