طلاق دل میں سوچنا
سوال
اگر دل میں بھی سوچا جائے تو کیا طلاق ہوگئی یا نہیں ؟
جواب
دل میں سوچا جائے تو طلاق نہیں ہوتی۔ طلاق واقع ہونے کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا یا تحریری طور پر طلاق دینا ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
’’لكن لا بد في وقوعه قضاءً وديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها‘‘. (3/250، کتاب الطلاق، ط: سعید)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144209200766
تاریخ24-04-2021

