بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزہ توڑنے کا کفارہ، مسلسل روزے رکھنے کا حکم

سوال

1:نفلی روزہ توڑنے کا کفارہ کیا ہوگا؟

2:اگر کوئی شخص ہفتے میں پانچ دن روزہ رکھے اور دو دن ناغہ کرے تو کیا یہ ٹھیک ہے،اگر کسی وجہ سے شادی نہ ہوسکے تو کیا نفس کو کنٹرول کرنے کا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟

3: شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹے گا؟

4: اکیلے نماز پڑھتے ہوئے کیا اونچی آواز میں تلاوت کرسکتے ہیں؟

5: تین یا چار  رکعتی نماز میں دوسری رکعت میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہوہ واجب ہوگا؟

جواب

1: نفلی روزہ توڑنے سے اس کی قضا  واجب ہے، روزہ توڑنے کا کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ البتہ نفلی روزہ عذر کے بغیر نہیں توڑناچاہیے۔

2: اگر شادی  کے  وسائل نہیں ہیں، اور گناہ میں وقوع کا خطرہ ہے تو  مذکورہ صورت اختیار کرکے روزے رکھے  جاسکتے  ہیں۔

3: شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

4: اگر سرّی نماز ہے تو آہستہ آواز میں قرأت کرنی چاہیے، البتہ اگر اونچی آواز سے قراءت کرلی تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا،  اور اگر جہری نماز  ہے، تو  منفرد کے  لیے اتنی اونچی آواز میں قراءت کرنا جائز ہے  جس سے کسی کے آرام یا کام میں خلل نہ ہو۔

5:اگر فرض ،  واجب   یا چار رکعات والی سنتِ مؤکدہ نماز  کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد  درود شریف وغیرہ پڑھ لیا تو اس سے سجدہ سہوہ لازم ہوجائےگا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200693
تاریخ22-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں