بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشگی دیے گئے کرائے کی زکات کس پر ہے؟

سوال

 دُکان کے مالک کو ایڈوانس رقم دی کہ کرایہ   میں اس سے کٹوتی ہوگی  تو اس صورت ميں زکات کس پر لازم هوگي ، دکان دار پر یا مالکِ دکان پر؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کرایہ کی مد میں  ایڈوانس  رقم،   دکان کے مالک کو دے دی تو اس صورت میں مذکورہ رقم کرایہ دار  کی ملکیت سے نکل کر  دکان کے مالک کی ملکیت میں  چلی گئی ؛   لہذا اس رقم کی زکات کرایہ دار  کے ذمے  واجب نہیں  ہوگی، بلکہ دکان کے مالک  کے ذمے  ہوگی۔

النتف في الفتاوي للسغدي میں ہے:

"أنواع الأجرة:  قال و الأجرة على أربعة أوجه: أما أن تكون معجلةً،  أو مؤجلةً،  أو منجمةً،  أو مسكوتًا عنها.

الأجرة المعجلة: فإن كانت معجلةً فليس للمستأجر أن يؤجلها.  الأجرة المؤجلة: و إذا كانت مستأجلةً فليس للأجير أن يستعجلها. الأجرة المنجمة:  فإذا كانت منجمةً فليس لأحدهما أن يؤخر أو يقدم من نجمها."

(كتاب الاجارة، انواع الاجارة، ٢ / ٥٦٣، ط: مسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200624
تاریخ21-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں