بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دانت کے درد کی وجہ سے روزہ توڑنا

سوال

اگر دانت میں شدید درد ہو تو اس حالت میں توڑ سکتے ہیں؟

جواب

اگر سائل کا مقصد روزے میں دانت کے درد کی وجہ سے روزہ توڑنے کا حکم دریافت کرنا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ایسا درد ہو کہ روزہ نہ توڑنے کی وجہ سے بیماری بڑھنے کا یا تندرست ہونے میں تاخیر کا یا دانت ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو  تو روزہ توڑنا جائز ہے۔ صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔ البتہ معمولی درد یا وہم کی بنا پر روزہ توڑنا جائز نہیں ہے اور توڑنے کی صورت میں قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 207):

"(ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا في التبيين ولو كان له نوبة الحمى فأكل قبل أن تظهر الحمى لا بأس به كذا في فتح القدير. ومن كان له حمى غب فلما كان اليوم المعتاد أفطر على توهم أن الحمى تعاوده وتضعفه فأخلفت الحمى تلزمه الكفارة كذا في الخلاصة ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200581
تاریخ21-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں