بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدۂ تلاوت ادا کیے بغیر انتقال کرجانے والے کے لیے کفارہ

سوال

اگرکسی بندہ نے سجدۂ  تلاوت نہیں کیا اور اسی  حالت میں موت آگئی توکوئی کفارہ ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص گناہ گار ہوا، اس کے لیے کثرت سے  استغفار  کیا جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 109):

"قلت: لكن سيذكر الشارح في الحج الإجماع على أنه لو تراخى كان أداء مع أن المرجح أنه على الفور ويأثم بتأخيره فهو نظير ما هنا تأمل. "

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200580
تاریخ21-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں