سجدۂ تلاوت ادا کیے بغیر انتقال کرجانے والے کے لیے کفارہ
سوال
اگرکسی بندہ نے سجدۂ تلاوت نہیں کیا اور اسی حالت میں موت آگئی توکوئی کفارہ ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص گناہ گار ہوا، اس کے لیے کثرت سے استغفار کیا جائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 109):
"قلت: لكن سيذكر الشارح في الحج الإجماع على أنه لو تراخى كان أداء مع أن المرجح أنه على الفور ويأثم بتأخيره فهو نظير ما هنا تأمل. "
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144209200580
تاریخ21-04-2021

