بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی نیت کے بعد سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے کھانا، پینا یا دوائی استعمال کرنا

سوال

1۔  سحری کا وقت ختم سے دس منٹ پہلےناک میں دوائي  ڈالی، پھر  نیت کرلی،  پانچ منٹ بعد  دوائی ناک سے حلق میں گئی،ابھی وقت ختم  ہونے   میں پانچ منٹ باقی ہیں ۔ تو کیا روزہ ٹوٹ گیا؟

2۔ اسی طرح اگر روزہ کی نیت کرلی ہو،  لیکن روزہ کا وقت ختم ہونے میں ٹائم ہو ،پھر دوائی  یا پانی پی لیا تو کیا روزہ توڑنے کے حکم میں  آئے گا؟

جواب

1،2۔۔ صبح صادق سے پہلے رات  میں کسی بھی وقت اگر روزہ کی نیت کرلی ہو تو اس کے بعد بھی صبح صادق  (سحری کا وقت ختم ہونے)  تک کھانا پینا وغیرہ  جائز ہوتا ہے، اس سے روزہ پر کوئی فرق نہیں آتا، روزہ اس وقت ٹوٹے گا جب صبح صادق ہوجانے کے بعد روزہ کے منافی کوئی عمل کیا ہو، لہذا سحری  سے دس منٹ پہلے روزہ کی نیت کرنے کے بعد سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے   حلق میں دوائی چلی گئی  یا کچھ کھا، پی لیا تو اس سے اس دن کا  روزہ فاسد نہیں ہوا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 377):

" (فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلاتصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها ولا (عندها) اعتبارا لأكثر اليوم."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200573
تاریخ21-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں