بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹیوں کی شادی کے لیے خریدے گئے سونے پر زکات کا حکم

سوال

ہم نے بچیوں کی شادی کی غرض سے سونا خرید کر رکھا ہے،  کیا اس سونے پر زکوۃ واجب ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ سونا اگر والد یا والدہ کی ہی ملکیت ہے تو نصاب پورا ہونے کی صورت میں ان پر زکات واجب ہوگی، البتہ اگر وہ بچیوں کی ملکیت کردیا گیا ہو، اور  وہ نا بالغہ ہوں تو ان کے سونے پر زکات واجب نہ ہوگی۔

نصاب پورا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر سونا ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو، یا سونے کے ساتھ، بنیادی ضرورت سے زائد  کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت بھی موجود ہو اور سونے اور ان اموال کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200535
تاریخ20-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں