بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کے سرہانے اور پاؤں کی طرف سورۃ بقرۃ پڑھنا

سوال

قبرستان میں قبر کے  سرہانے  اور  پاؤں  کی  طرف  سورۃ  بقرۃ  پڑھنا کیسا ہے؟ کیا سنت  سے ثابت  ہے؟

جواب

میت کو دفن کرنے کے بعد جب قبر پر مٹی ڈال دی جائے تو میت کے سرہانے  سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیتیں ”الم“ سے ”المفلحون “  تک پڑھنا، اور میت کی پائینتی جانب  سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ”آمن الرسول“ سے آخر تک پڑھنا مستحب ہے، اور حدیث سے ثابت ہے۔

 حدیثِ مبارک میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا مات أحدكم فلاتحبسوه و أسرعوا به إلى قبره، و ليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة و عند رجليه بخاتمة البقرة». رواه البيهقي في شعب الإيمان. وقال: والصحيح أنه موقوف عليه."

(1/ 149، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ط: قدیمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200478
تاریخ20-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں