بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کے قعدہ میں درود شریف کے بعد دعائیں پڑھنا

سوال

 نماز تراویح  كے  قعدہ میں التحیات اور درودشریف کے بعد  "رب اجعلنی" پڑھنی چاہیے  یا نہیں؟

جواب

فرض، سنت اور نفل نماز میں قعدہ اخیرہ میں درود شریف پڑھنا سنت ہے، اور درود شریف کے بعد کی   دعائیں  مستحب ہیں، لہذا تراویح میں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، البتہ  اگر کسی عذر  کی وجہ سے ان دعاؤں کو  چھوڑدیا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، لیکن مستقل چھوڑنے کا معمول مناسب نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 47):

" (ويأتي الإمام والقوم بالثناء في كل شفع، ويزيد) الإمام (على التشهد، إلا أن يمل القوم فيأتي بالصلوات) ويكتفي باللهم صل على محمد؛ لأنه الفرض عند الشافعي.

(ويترك الدعوات) ويجتنب المنكرات هذرمة القراءة، وترك تعوذ وتسمية، وطمأنينة، وتسبيح، واستراحة.

(قوله :  ويزيد الإمام إلخ) أي بأن يأتي بالدعوات بحر".

 (الدر المختار، باب الوتر و النوافل، (2/47) ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200452
تاریخ19-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں