بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی جماعت نکل جانے کی صورت میں تراویح کا حکم

سوال

اگر کسی شخص کی عشاء کی جماعت  چھوٹ جائے تو تراویح اور وتر کی جماعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگرمسجد میں عشاء کی نماز باجماعت ہوگئی اور کوئی شخص بعد میں آیا تو وہ تنہا فرض پڑھ کر تراویح اور اس کے بعد وتر  کی جماعت میں شریک ہوجائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200399
تاریخ19-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں