بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوائیوں پر زکات کا حکم

سوال

میں ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہوں،  میں کمپنی سے جو قیمت پر دوائی لیتا ہوں ، میں اس پر زکوٰۃ دوں،  یا میں جو دوائی مریض پر بیجتا ہو اس پر زکوٰۃ دینا  ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں  تو ایسی صورت میں زکات کا  سال مکمل ہونے  پر آپ کے پاس جتنی دوائیاں موجود ہوں ان کی قیمتِ  فروخت کے اعتبار سے مالیت کا حساب کرکے، جتنی مالیت کی دوائیاں موجود ہوں، اور  جو کچھ بھی آپ کے پاس نقدی موجود ہو، ان سب کے مجموعہ کا چالیسواں حصہ بطور  زکات  ادا کرنا آپ پر  لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200379
تاریخ18-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں