بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کو زکات دینا

سوال

اگر کوئی عورت بیوہ ہو جائے  اور  اس کی اولا د 15 یا18 سال کی ہو تو اسے زکوۃ دینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صرف بیوہ ہونا مستحقِ زکات ہونے کے  لیے کافی نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ  مسلمان بیوہ  خاتون کی ملکیت  میں نصاب  کے بقدر سونا، یا چاندی یا ضروریات اصلیہ سے زائد  اتنی نقدی موجود نہ ہو  جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی یا  اس سے زائد بنتی ہو   یا استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا سامان یا مال جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی یا اس سے زیادہ ہو، اس کی ملکیت میں نہ ہو، اور وہ سیدہ یا عباسی، علوی، وغیرہ بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں انہیں زکات دے سکتے ہیں، بصورتِ  دیگر زکات دینا جائز نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200369
تاریخ18-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں