بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پولیو کے قطرے پلانے کا حکم

سوال

کیا میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے نام سے پلائے جانے والے قطرے پلا سکتا ہوں؟ سرکار کی جانب سے یہ قطرے زبردستی پلائے جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص ان قطروں کو پلانے سے انکار کرے تو اس کو گرفتار کیا جاتا ہے۔جب کہ ان قطروں کے متعلق کہا جاتاہے یہ بل گیٹس کے فنڈز سے پلائے جارہے ہیں جو کہ ایک یہودی ہے ۔ اور  ہم نے اپنے علماء سے سنا کہ یہود و نصارٰی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ہیں۔برائے کرم رہنمائی فرمائیں!

 

جواب

پولیو  یا اس جیسی دیگر  بیماریوں کی ویکسینز کے سلسلے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کردے کہ یہ مضر صحت نہیں اور  نہ ہی اس میں کوئی  ناپاک چیزشامل ہے تو فی  نفسسہ ان قطروں کاپلانا جائز ہے۔

باقی  یہ قطرے کس کے فنڈ سے پلائے جاتے ہیں، اس کی نہ ہمیں تحقیق ہے، اور نہ ہی کسی شخص کے فنڈ سے ہونے سے اصولی حکم میں فرق آئے گا، حکم میں فرق اس کے اجزاء اور اثرات پر مرتب ہوگا، جس کا تعلق میڈیکل کے شعبے سے ہے، لہٰذا ماہر مسلمان متدین ڈاکٹروں سے رجوع کرکے ان کی رائے پر عمل کیا جائے۔

   مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے ترجمان رسالہ ”ماہنامہ بینات“ کے مضمون کا مطالعہ کرلیں:

پولیو کے قطرے ، عوامی تشویش اور سرکاری ذمہ داری!

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200368
تاریخ18-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں