بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر تعمیر کروانے کی نیت سے پلاٹ خریدا

سوال

میرا کرائے کا گھر ہے، میں نے ایک پلاٹ اس نیت سے خریدا تھا کہ اگر اس شہر میں میری نوکری لگ گئی تو اپنا گھر تعمیر کروا لوں گا،  ادھر کراچی میں رہا تو کچھ سالوں بعد اس پلاٹ کو فروخت کرکے  ادھر کراچی میں اپنا گھر لوں گا،    پیسے آہستہ آہستہ جمع ہوں گے، کیوں کہ  ایک  ساتھ  گھر خریدنے کے پیسے نہیں ہیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اس پلاٹ کی مالیت پر زکات واجب نہ ہوگی، البتہ سائل جب مذکورہ پلاٹ فروخت کرے گا، اس وقت اس کی قیمت پر  زکات کے احکام کے مطابق زکات ادا کرنا واجب ہوگا، یعنی اگر یہ رقم زکات کا سال پورا ہونے کے وقت موجود ہوئی تو اس کی زکات ہوگی، اگر اس سے پہلے ذاتی مصرف میں استعمال ہوگئی تو اس کی زکات نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200289
تاریخ18-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں