بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں آیتِ سجدہ کے تکرار پر سجدہ کا حکم

سوال

اگر امام تراویح  میں سجدہ تلاوت کى آيت  پڑھ  کر  سجدہ کرے اور اٹھنے کے بعد اسى آيت کا تکرار کر لے اور  سجدہ نہ کرے تو کيا يہ ايک سجدہ دونوں کے ليے کافى ہو گا؟ اور اب ايسى صورت میں قرآن ختم ہو گا يا نہیں؟ نيز نماز میں واجب ہونے والا سجدہ نماز سے باہر ادا ہوسکتا ہے کہ نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں امام صاحب نے تراویح کی نماز میں آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرلیا، اور پھر کھڑے ہوکر اگلی آیت کے بجائے وہی آیت سجدہ دوبارہ پڑھ لی  تو پہلا سجدہ کافی ہے، دوبارہ سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، نہ امام پر اور نہ ہی مقتدیوں پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، اور سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوگا۔

(کذا فی بہشتی زیور، حصہ دوم، ص ۱۰۳، مسئلہ ء۲۳، سجدہ تلاوت کا بیان،   ط: توصیف پبلی کیشنز، لاہور)

اور دوبارہ سجدہ نہ کرنے  سے قرآن  کی تکمیل پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور جب نماز میں دوبارہ سجدہ لازم نہیں، تو نماز سے باہر بھی اس کی وجہ سے  سجدہ لازم نہیں ہوگا۔  ویسے بھی جو سجدہ تلاوت نماز میں واجب ہوا ہو، اور  نماز میں اسے  بالکل ادا نہ کیا تو نماز سے باہر یہ سجدہ تلاوت قضا نہیں کیا جاسکتا، اس صورت میں  واجب سجدہ  چھوڑنے پر توبہ  واستغفار کرنا ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 135):

"ولو تلاها في ركعة فسجدها ثم أعادها في تلك الركعة لاتجب ثانيًا، كذا في محيط السرخسي".

الفتاوى الهندية (1 / 134):

"والسجدة التي وجبت في الصلاة لا تؤدى خارج الصلاة، كذا في السراجية وهكذا في الكافي، ويكون آثما بتركها، هكذا في البحر الرائق."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200284
تاریخ18-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں