بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آفس میں ساتھ کام کرنے والی کو بہن کہنا

سوال

آفس  میں  ساتھ  کام  کرنے والی ایک عورت جوکہ رشتہ دار نہیں، اس کے  ساتھ  بہن  بھائی  کا رشتہ رکھنا، قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں!

جواب

سگے  بہن بھائی وہ ہوتے  ہیں جو ایک مرد وعورت سے پیدا  ہوں،  اور  ان کا باہم نکاح حرام ہے، اسی طرح ماں یا باپ شریک بہن بھائی یا رضاعی بہن بھائیوں کا باہم نکاح حرام ہے۔اجنبی عورت کو بہن  کہنا بے عقلی کی بات  ہے۔  نیز غیر محارم سے اختلاط گناہ ہونے کے ساتھ کئی مفاسد پرمشتمل ہے، اس میں بدنگاہی بھی ہے، بلا ضرور ت بات کرنا بھی گناہ ہے اور یہی تعلقات آگے چل کر نہ صرف کسی بڑے گناہ کا پیش خیمہ بنتے ہیں، بلکہ خاندانی رسوائی کا بھی سبب بنتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ آفس میں ساتھ کام کرنے والی کو بہن کہنا  قطعاً درست نہیں، محض زبانی بات کر لینے سے کوئی بھائی بہن نہیں بن جاتا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200267
تاریخ17-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں